تاب و تب

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - الجھن، بے تابی۔  ہشیار کہ دل سے تاب و تب جاتی ہے آغوش سے لیلائے طرب جاتی ہے      ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٢٥٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے مرکب عطفی ہے۔ لفظ 'تاب' کے ساتھ 'تب' لگایا گیا ہے۔ دونوں اسما کو واؤ معطوفہ سے ملایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٠٢ء کو حسرت لکھنوی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث